I am a husband Part 2 ميں ايک مياں ہوں
مثلاً مرزا صاحب ہی کو ليجيئے، اچهے خاصے اور بهلے آدمی ہيں۔ گو
محکمہ جنگلات ميں ايک معقول عہدے پر ممتاز ہيں ليکن شکل وصورت
ايسی پاکيزہ پائی ہے کہ امام مسجد معلوم ہوتے ہيں۔ جوا وہ نہيں کهيلتے، گلی
ڈنڈے کا ان کو شوق نہيں۔ جيب کترتے ہوئے کبهی وہ نہيں پکڑے گئے۔ البتہ
کبوتر پال رکهے ہيں، ان ہی سے جی بہلاتے ہيں۔ ہماری اہليہ کی يہ کيفيت
ہے کہ محلے کا کوئی بدمعاش جوئے ميں قيد ہوجائے تو اس کی ماں کے
پاس ماتم پرسی تک کو چلی جاتی ہيں۔ گلی ڈنڈے ميں کی آنکه پهوٹ جائے تو
مرہم پٹی کرتی رہتی ہيں۔ کوئی جيب کترا پکڑا جائے تو گهنٹوں آنسو بہاتی
رہتی ہيں، ليکن وہ بزرگ جن کو دنيا بهر کی زبان ميں مرزا صاحب کہتے
تهکتی ہے وہ ہمارے گهر ميں “موئے کبوترباز” کے نام سے ياد کئے جاتے
ہيں کبهی بهولے سے بهی ميں آسمان کی طرف نظر اٹها کر کسی چيل،
کوئے، گده، شکرے کو ديکهنے لگ جاؤں تو روشن آراء کو فوراً خيال
ہوجاتا ہے کہ بس اب يہ بهی کبوترباز بننے لگا۔
اس کے بعد مرزا صاحب کی شان ميں ايک قصيدہ شروع ہوجاتا ہے۔ بيچ ميں
ميری جانب گريز۔ کبهی لمبی بحر ميں، کبهی چهوٹی بحر ميں۔
ايک دن جب يہ واقعہ پيش آيا، تو ميں نے مصمم ارادہ کرليا کہ اس مرزا
کمبخت کو کبهی پاس نہ پهٹکنے دوں گا، آخر گهر سب سے مقدم ہے۔ بيوی
کے باہمی اخلاص کے مقابلے ميں دوستوں کی خوشنودی کيا چيز ہے؟
چنانچہ ہم غصے ميں بهرے ہوئے مرزا صاحب کے گهر گئے، دروازہ
کهٹکهٹايا۔ کہنے لگے اندر آجاؤ۔ ہم نے کہا، نہيں آتے تم باہر آؤ۔ خير اندر گيا۔
بدن پر تيل مل کر ايک کبوتر کی چونچ منہ ميں لئے دهوپ ميں بيٹهے تهے۔
کہنے لگے بيٹه جاؤ ہم نے کہا، بيٹهيں گے نہيں، آخر بيٹه گئے معلوم ہوتا ہے
ہمارے تيور کچه بگڑے ہوئے تهے، مرزا بولے کيوں بهئی؟ خيرباشد! ميں
نے کہا کچه نہيں۔ کہنے لگے اس وقت کيسے آنا ہوا؟
اب ميرے دل ميں فقرے کهولنے شروع ہوئے۔ پہلے ارادہ کيا کہ ايک دم ہی
سب کچه کہہ ڈالو اور چل دو، پهر سوچا کہ مذاق سمجهے گا اس ليے کسی
ڈهنگ سے بات شروع کرو۔ ليکن سمجه ميں نہ آيا کہ پہلے کيا کہيں، آخر ہم
نے کہا۔
“مرزا، بهئی کبوتر بہت مہنگے ہوتے ہيں؟”
يہ سنتے ہی مرزا صاحب نے چين سے لے کر امريکہ تک کے تمام کبوتروں
کو ايک ايک کرکے گنوانا شروع کيا۔ اسے بعد دانے کی مہنگائی کے متعلق
گل افشانی کرتے رہے اور پهر محض مہنگائی پر تقرير کرنے لگے۔ اس دن
تو ہم يوں ہی چلے آئے ليکن ابهی کهٹ پٹ کا ارادہ دل ميں باقی تها۔ خدا کا
کرنا کيا ہوا کہ شام کو گهر ميں ہماری صلح ہوگئی۔ ہم نے کہا، چلو اب مزرا
کے ساته بگاڑنے سے کيا حاصل؟ چنانچہ دوسرے دن مرزا سے بهی صلح
صفائی ہوگئی۔
ليکن ميری زندگی تلخ کرنے کے ليے ايک نہ ايک دوست ہميشہ کارآمد ہوتا
ہے۔ ايسا معلوم ہوتا ہے کہ فطرت نے ميری طبيعت ميں قبوليت اور صلاحيت
کوٹ کوٹ کر بهر دی ہے کيونکہ ہماری اہليہ کو ہم ميں ہر وقت کسی نہ کسی
دوست کی عادات قبيحہ کی جهلک نظر آتی رہتی ہے يہاں تک کہ ميری اپنی
ذاتی شخصی سيرت بالکل ہی ناپيد ہوچکی ہے۔
شادی سے پہلے ہم کبهی کبهی دس بجے اٹها کرتے تهے ورنہ گيار بجے۔ اب
کتنے بجے اٹهتے ہيں؟ اس کا اندازہ وہی لوگ لگاسکتے ہيں جن کے گهر
ناشتہ زبردستی صبح کے سات بجے کرا ديا جاتا ہےاور اگر ہم کبهی بشری
کمزوری کے تقاضے سے مرغوں کی طرح تڑکے اُٹهنے ميں کوتاہی کريں
تو فوراً ہی کہہ ديا جاتا کہ ہے کہ يہ نکهٹو نسيم کی صحبت کا نتيجہ ہے۔ ايک
دن صبح صبح ہم نہا رہے تهے، سردی کا موسم ہاته پاؤں کانپ رہے تهے،
صابن سر پر ملتے تهے تو ناک ميں گهستا تها کہ اتنے ميں ہم نے خدا جانے
کس پراسرار جذبے کے ماتحت غسل خانے ميں الاپنا شروع کيا۔ اور پهر
گانے لگے کہ “توری چهل بل ہے نيازی۔۔۔”اس کو ہماری انتہائی بدمذاقی
سمجها گيا، اور اس بدمذاقی کا اصل منبع ہمارے دوست پنڈت جی کو ٹهہرايا
گيا۔
I am a husband. ميں ايک مياں ہوں
ميں ايک مياں ہوں۔ مطيع وفرمانبردار، اپنی بيوی روشن آراء کو اپنی زندگی
کی ہر ايک بات سے آگاہ رکهنا اصول زندگی سمجهتا ہوں اور ہميشہ اس پر
کاربند رہا ہوں۔ خدا ميرا انجام بخير کرے۔
چنانچہ ميری اہليہ ميرے دوستوں کی تمام عادات وخصائل سے واقف ہيں۔
جس کا نتيجہ يہ ہے کہ ميرے دوست جتنے مجه کو عزيز ہيں اتنے ہی روشن
آراء کو برے لگتے ہيں۔ ميرے احباب کی جن اداؤں نے مجهے محسور
کررکها ہے انہيں ميری اہليہ ايک شريف انسان کے ليے باعث ذلت سمجهتی
ہيں۔
آپ کہيں يہ نہ سمجه ليں کہ خدانحواستہ وہ کوئی ايسے آدمی ہيں، جن کا ذکر
کسی معزز مجمع نہ کيا جاسکے۔ کچه اپنے ہنر کے طفيل اور کچه خاکسار
کی صحبت کی بدولت سب کے سب ہی سفيد پوش ہيں۔ ليکن اس بات کو کيا
کروں کہ ان کی دوستی ميرے گهر کے امن ميں اس قدر خلل انداز ہوتی ہے
کہ کچه خاکسار کی صحبت کی بدولت سب کے سب ہی سفيد پوش ہيں۔ ليکن
اس بات کو کيا کروں کہ ان کی دوستی ميرے گهر کے امن ميں اس قدر خلل
انداز ہوتی ہے کہ کچه کہہ نہيں سکتا۔
Source: Pitras Kay mazamein