Musafir

************************************************************

iss Ishaq ki Nehaj per na pohanch

aur mein rasta bhatak gaya hon

kia dekhta hon k ghup andhera

aur roshini ka guma nahi

chal para hon ye soch k

kuch durr he ho ge manzil myri

sadyon ki musafat mein

andheray mein Manoos howa hon

kia dekkkhta hon k

ik gum dunya azaad khuli hai

azada hawain, azad nazare

azad dil, aur soch hoe hai

mein andhere ka bhatka musafir

kholi Ankh Manzil dekh raha hon.

M Moeen uddin

moeen.wordpress and urdupoets

Its going to be InshaALLah a new venture, when i m going to combine both of these blogs moeen.wordpress.com .and this one. The experiment is going to be unique in its own way.

Urdu Poet : Mushtaq Ahmed Mushtaq مشتاق احمد مشتاق

دیکھہ قسمت بنانے وال کا دستور
بہار اس کا مقدر ہمسفر خزاں اپنی
نہ پوچھا مجھہ سےشہر وفا کا موسم
دو پل ہوہئ دنیا ویراں اپنی
کیونکر شکوہ کریں زمانے سے ہم
گر قسمت ہی نہیں مہرباں اپنی
اس دشت تنہاہی میں اب تو مشتاق
بس یادیں ہیں اس کی پاسباں اپنی

List of Urdu Poets

I m preparing the list of eminent poets of Urdu Language, mostly prevailed in the Indian sub continent. Though the effort has been already done, but the compilation is very short and concrete. I want it to present as if a lover of urdu language should really do.

Also some other important features are also in discussion with the team to Promote the Urdu script, urdu localization, and urdu computing on the web.

Soon, the features will be presented at the http://www.aliphbay.com

I am a husband Part 2 ميں ايک مياں ہوں

 

مثلاً مرزا صاحب ہی کو ليجيئے، اچهے خاصے اور بهلے آدمی ہيں۔ گو

محکمہ جنگلات ميں ايک معقول عہدے پر ممتاز ہيں ليکن شکل وصورت

ايسی پاکيزہ پائی ہے کہ امام مسجد معلوم ہوتے ہيں۔ جوا وہ نہيں کهيلتے، گلی

ڈنڈے کا ان کو شوق نہيں۔ جيب کترتے ہوئے کبهی وہ نہيں پکڑے گئے۔ البتہ

کبوتر پال رکهے ہيں، ان ہی سے جی بہلاتے ہيں۔ ہماری اہليہ کی يہ کيفيت

ہے کہ محلے کا کوئی بدمعاش جوئے ميں قيد ہوجائے تو اس کی ماں کے

پاس ماتم پرسی تک کو چلی جاتی ہيں۔ گلی ڈنڈے ميں کی آنکه پهوٹ جائے تو

مرہم پٹی کرتی رہتی ہيں۔ کوئی جيب کترا پکڑا جائے تو گهنٹوں آنسو بہاتی

رہتی ہيں، ليکن وہ بزرگ جن کو دنيا بهر کی زبان ميں مرزا صاحب کہتے

تهکتی ہے وہ ہمارے گهر ميں “موئے کبوترباز” کے نام سے ياد کئے جاتے

ہيں کبهی بهولے سے بهی ميں آسمان کی طرف نظر اٹها کر کسی چيل،

کوئے، گده، شکرے کو ديکهنے لگ جاؤں تو روشن آراء کو فوراً خيال

ہوجاتا ہے کہ بس اب يہ بهی کبوترباز بننے لگا۔

اس کے بعد مرزا صاحب کی شان ميں ايک قصيدہ شروع ہوجاتا ہے۔ بيچ ميں

ميری جانب گريز۔ کبهی لمبی بحر ميں، کبهی چهوٹی بحر ميں۔

ايک دن جب يہ واقعہ پيش آيا، تو ميں نے مصمم ارادہ کرليا کہ اس مرزا

کمبخت کو کبهی پاس نہ پهٹکنے دوں گا، آخر گهر سب سے مقدم ہے۔ بيوی

کے باہمی اخلاص کے مقابلے ميں دوستوں کی خوشنودی کيا چيز ہے؟

چنانچہ ہم غصے ميں بهرے ہوئے مرزا صاحب کے گهر گئے، دروازہ

کهٹکهٹايا۔ کہنے لگے اندر آجاؤ۔ ہم نے کہا، نہيں آتے تم باہر آؤ۔ خير اندر گيا۔

بدن پر تيل مل کر ايک کبوتر کی چونچ منہ ميں لئے دهوپ ميں بيٹهے تهے۔

کہنے لگے بيٹه جاؤ ہم نے کہا، بيٹهيں گے نہيں، آخر بيٹه گئے معلوم ہوتا ہے

ہمارے تيور کچه بگڑے ہوئے تهے، مرزا بولے کيوں بهئی؟ خيرباشد! ميں

نے کہا کچه نہيں۔ کہنے لگے اس وقت کيسے آنا ہوا؟

اب ميرے دل ميں فقرے کهولنے شروع ہوئے۔ پہلے ارادہ کيا کہ ايک دم ہی

سب کچه کہہ ڈالو اور چل دو، پهر سوچا کہ مذاق سمجهے گا اس ليے کسی

ڈهنگ سے بات شروع کرو۔ ليکن سمجه ميں نہ آيا کہ پہلے کيا کہيں، آخر ہم

نے کہا۔

“مرزا، بهئی کبوتر بہت مہنگے ہوتے ہيں؟”

يہ سنتے ہی مرزا صاحب نے چين سے لے کر امريکہ تک کے تمام کبوتروں

کو ايک ايک کرکے گنوانا شروع کيا۔ اسے بعد دانے کی مہنگائی کے متعلق

گل افشانی کرتے رہے اور پهر محض مہنگائی پر تقرير کرنے لگے۔ اس دن

تو ہم يوں ہی چلے آئے ليکن ابهی کهٹ پٹ کا ارادہ دل ميں باقی تها۔ خدا کا

کرنا کيا ہوا کہ شام کو گهر ميں ہماری صلح ہوگئی۔ ہم نے کہا، چلو اب مزرا

کے ساته بگاڑنے سے کيا حاصل؟ چنانچہ دوسرے دن مرزا سے بهی صلح

صفائی ہوگئی۔

ليکن ميری زندگی تلخ کرنے کے ليے ايک نہ ايک دوست ہميشہ کارآمد ہوتا

ہے۔ ايسا معلوم ہوتا ہے کہ فطرت نے ميری طبيعت ميں قبوليت اور صلاحيت

کوٹ کوٹ کر بهر دی ہے کيونکہ ہماری اہليہ کو ہم ميں ہر وقت کسی نہ کسی

دوست کی عادات قبيحہ کی جهلک نظر آتی رہتی ہے يہاں تک کہ ميری اپنی

ذاتی شخصی سيرت بالکل ہی ناپيد ہوچکی ہے۔

شادی سے پہلے ہم کبهی کبهی دس بجے اٹها کرتے تهے ورنہ گيار بجے۔ اب

کتنے بجے اٹهتے ہيں؟ اس کا اندازہ وہی لوگ لگاسکتے ہيں جن کے گهر

ناشتہ زبردستی صبح کے سات بجے کرا ديا جاتا ہےاور اگر ہم کبهی بشری

کمزوری کے تقاضے سے مرغوں کی طرح تڑکے اُٹهنے ميں کوتاہی کريں

تو فوراً ہی کہہ ديا جاتا کہ ہے کہ يہ نکهٹو نسيم کی صحبت کا نتيجہ ہے۔ ايک

دن صبح صبح ہم نہا رہے تهے، سردی کا موسم ہاته پاؤں کانپ رہے تهے،

صابن سر پر ملتے تهے تو ناک ميں گهستا تها کہ اتنے ميں ہم نے خدا جانے

کس پراسرار جذبے کے ماتحت غسل خانے ميں الاپنا شروع کيا۔ اور پهر

گانے لگے کہ “توری چهل بل ہے نيازی۔۔۔”اس کو ہماری انتہائی بدمذاقی

سمجها گيا، اور اس بدمذاقی کا اصل منبع ہمارے دوست پنڈت جی کو ٹهہرايا

گيا۔

I am a husband. ميں ايک مياں ہوں

ميں ايک مياں ہوں۔ مطيع وفرمانبردار، اپنی بيوی روشن آراء کو اپنی زندگی
کی ہر ايک بات سے آگاہ رکهنا اصول زندگی سمجهتا ہوں اور ہميشہ اس پر
کاربند رہا ہوں۔ خدا ميرا انجام بخير کرے۔
چنانچہ ميری اہليہ ميرے دوستوں کی تمام عادات وخصائل سے واقف ہيں۔
جس کا نتيجہ يہ ہے کہ ميرے دوست جتنے مجه کو عزيز ہيں اتنے ہی روشن
آراء کو برے لگتے ہيں۔ ميرے احباب کی جن اداؤں نے مجهے محسور
کررکها ہے انہيں ميری اہليہ ايک شريف انسان کے ليے باعث ذلت سمجهتی
ہيں۔
آپ کہيں يہ نہ سمجه ليں کہ خدانحواستہ وہ کوئی ايسے آدمی ہيں، جن کا ذکر
کسی معزز مجمع نہ کيا جاسکے۔ کچه اپنے ہنر کے طفيل اور کچه خاکسار
کی صحبت کی بدولت سب کے سب ہی سفيد پوش ہيں۔ ليکن اس بات کو کيا
کروں کہ ان کی دوستی ميرے گهر کے امن ميں اس قدر خلل انداز ہوتی ہے
کہ کچه خاکسار کی صحبت کی بدولت سب کے سب ہی سفيد پوش ہيں۔ ليکن
اس بات کو کيا کروں کہ ان کی دوستی ميرے گهر کے امن ميں اس قدر خلل
انداز ہوتی ہے کہ کچه کہہ نہيں سکتا۔

 

Source: Pitras Kay mazamein

Divisions of Pakistan

Divisions of Pakistan

This document Tells us how Pakistan is going to be divided. How much of this is true.

Read and Answer.

Pitrass kay Mazameen لاہور کا جغرافي پطرس بخارى

 

لاہور کا جغرافيہ

تمہيدتمہيد کے طور پر صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ لاہور کو دريافت ہوئے
اب بہت عرصہ گزرچکا ہے، اس ليے دلائل و براہين سے اس کے وجودکو
ثابت کرنے کی ضرورت نہيں۔ يہ کہنے کی اب ضرور نہيں کہ کُرے کو
دائيں سے بائيں گهمائيے۔ حتیٰ کہ ہندوستان کا ملک آپ کے سامنے آکر ٹهہر
جائے پهر فلاں طول البلد اور فلاں عرض البلد کے مقام انقطاع پر لاہور کا نام
تلاش کيجيئے۔ جہاں يہ نام کُرے پر مرقوم ہو، وہی لاہور کا محل وقوع ہے۔
اس ساری تحقيقات کو مختصر مگر جامع الفاظ ميں بزرگ يوں بيان کرتے ہيں
کہ لاہور، لاہور ہی ہے، اگر اس پتے سے آپ کو لاہور نہيں مل سکتا، تو آپ
کی تعليم ناقص اور آپ کی دہانت فاتر ہے۔
محل وقوعايک دو غلط فہمياں البتہ ضرور رفع کرنا چاہتا ہوں۔ لاہور پنجاب ميں واقع
ہے۔ ليکن پنجاب اب پنج آب نہيں رہا۔ اس پانچ درياؤں کی سرزمين ميں اب
صرف چار دريا بہتے ہيں۔ اور جو نصف دريا ہے، وہ تو اب بہنے کے قابل
بهی نہيں رہا۔ اسی کو اصطلاح ميں راوی ضعيف کہتے ہيں۔ ملنے کا پتہ يہ
ہےکہ شہر کے قريب دو پل بنے ہيں۔ ان کے نيچے ريت ميں دريا ليٹا رہتا
ہے۔ بہنے کا شغل عرصے سے بند ہے، اس ليے يہ بتانا بهی مشکل ہے کہ
شہر دريا کے دائيں کنارے پر واقع ہے يا بائيں کنارے پر۔ لاہور تک پہنچنے
کے کئی رستے ہيں۔ ليکن دو ان ميں سے بہت مشہور ہيں۔ ايک پشاور سے آتا
ہے اور دوسرا دہلی سے۔ وسط ايشيا کے حملہ آور پشاور کے راستے اور
يو۔پی کے رستے وارد ہوتے ہيں۔ اول الذکر اہل سيف کہلاتے ہيں اور غزنوی
يا غوری تخلص کرتے ہيں مؤخر الذکر اہل زبان کہلاتے ہيں۔ يہ بهی تخلص
کرتے ہيں، اور اس ميں يدطولیٰ رکهتے ہيں۔
حدوداربعہ

کہتے ہيں، کسی زمانے ميں لاہور کا حدوداربعہ بهی ہوا کرتا تها، ليکن طلباء
کی سہولت کے ليے ميونسپلٹی نے اس کو منسوخ کرديا ہے۔ اب لاہور کے
چاروں طرف بهی لاہور ہی واقعہ ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہورہا ہے۔
ماہرين کا اندازہ ہے، کہ دس بيس سال کے اندر لاہور ايک صوبے کا نام ہوگا۔
جس کادارالخلافہ پنجاب ہوگا۔ يوں سمجهئے کہ لاہور ايک جسم ہے، جس کے
ہر حصے پر ورم نمودار ہورہا ہے، ليکن ہر ورم مواد فاسد سے بهرا ہے۔
گويا يہ توسيع ايک عارضہ ہے۔ جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔
آب وہوا

لاہور کی آب وہوا کے متعلق طرح طرح کی روايات مشہور ہيں، جو تقريب ا
سب کی سب غلط ہيں، حقيقت يہ ہے کہ لاہور کے باشندوں نے حال ہی ميں يہ
خواش ظاہر کی ہے کہ اور شہروں کی طرح ہميں بهی آب و ہوا دی جائے،
ميونسپلٹی بڑی بحث وتمحيص کے بعد اس نتيجہ پر پہنچی کہ اس ترقی کے
دور ميں جبکہ دنيا ميں کئی ممالک کو ہوم رول مل رہا ہے اور لوگوں ميں
بيداری کے آثار پيدا ہو رہے ہيں، اہل لاہور کی يہ خواش ناجائز نہيں۔ بلکہ
ہمدردانہ غوروخوض کی مستحق ہے۔
ليکن بدقسمتی سے کميٹی کے پاس ہوا کی قلت تهی، اس ليے لوگوں کو ہدايت
کی گئی کہ مفاد عامہ کے پيش نظر اہل شہر ہوا کا بيجا استعمال نہ کريں،
بلکہ جہاں تک ہوسکے کفايت شعاری سے کام ليں۔ چنانچہ اب لاہور ميں عام
ضروريات کے ليے ہوا کے بجائے گرد اور خاص خاص حالات ميں دهواں
استعمال کيا جاتا ہے۔ کميٹی نے جابجا دهوئيں اور گرد کے مہيا کرنے ليے
مرکز کهول ديئے ہيں۔ جہاں يہ مرکبات مفت تقسيم کئے جاتے ہيں۔ اميد کی
جاتی ہے، کہ اس سے نہايت تسلی بخش نتائج برآمد ہوں گے۔
بہم رسائی آب کے ليے ايک اسکيم عرصے سے کميٹی کے زيرغور ہے۔ يہ
اسکيم نظام سقے کے وقت سے چلی آتی ہےليکن مصيبت يہ ہے کہ نظام
سقے کے اپنےہاته کے لکهئے ہوئے اہم مسودات بعض تو تلف ہوچکے ہيں
اور جو باقی ہيں ان کے پڑهنے ميں بہت دقت پيش آرہی ہے اس ليے ممکن
ہے تحقيق وتدقيق ميں چند سال اور لگ جائيں، عارضی طور پر پانی کا يہ
انتظام کيا گيا ہے کہ فی الحال بارش کے پانی کو حتی الوسع شہر سے باہر
نکلنے نہيں ديتے۔ اس ميں کميٹی کو بہت کاميابی حاصل ہوئی ہے۔ اميد کی
جاتی ہے کہ تهوڑے ہی عرصے ميں ہر محلے کا اپنا ايک دريا ہوگا جس ميں
رفتہ رفتہ مچهلياں پيدا ہوں گی اور ہر مچهلی کے پيٹ ميں کميٹی کی ايک
انگوٹهی ہوگی جو رائے دہندگی کے موقع پر ہر رائے دہندہ پہن کر آئے گا۔
نظام سقے کے مسودات سے اس قدر ضرور ثابت ہوا ہے کہ پانی پہنچانے
کے ليے نل ضروری ہيں چنانچہ کميٹی نے کروڑوں روپے خرچ کرکے
جابجا نل لگوا دی ئے ہيں۔ فی الحال ان ميں ہائيڈروجن اور آکيسجن بهری ہے۔
ليکن ماہرين کی رائے ہے کہ ايک نہ ايک دن يہ گيسيں ضرور مل کر پانی
بن جائيں گی۔ چنانچہ بعض بعض نلوں ميں اب بهی چند قطرے روزآنہ ٹپکتے
ہيں۔ اہل شہر کو ہدايت کی گئی ہے، کہ اپنے اپنے گهڑے نلوں کے نيچے رکه
چهوڑيں تاکہ عين وقت پر تاخير کی وجہ سے کسی کو دل شکنی نہ ہو، شہر
کے لوگ اس پر بہت خوشياں منا رہے ہيں۔

ذرائع آمدورفت

جو سياح لاہور تشريف لانے کا ارادہ رکهے ہوں، ان کو يہاں کے ذرائع
آمدورفت کے متعلق چند ضروری باتيں ذہن نشين کرلينی چاہئيں۔ تاکہ وہ يہاں
کی سياحت سے کماحقہ اثرپذير ہوسکيں۔ جو سڑک بل کهاتی ہوئی لاہور کے
بازاروں ميں سے گزرتی ہے، تاريخی اعتبار سے بہت اہم ہے۔ يہ وہی سڑک
ہے جسے شيرشاہ سوری نے بنايا تها۔ يہ آثار قديمہ ميں شمار ہوتی ہے اور
بےحد احترام کی نظروں سے ديکهی جاتی ہے۔ چنانچہ اس ميں کسی قسم کا
ردوبدل گوارا نہيں کيا جاتا۔ وہ قديم تاريخی گهڑے اور خندقيں جوں کی توں
موجود ہيں۔ جنہں نے کئی سلطنتوں کے تختے اُلٹ د يئے تهے۔ آج کل بهی
کئی لوگوں کے تختے يہاں اُلٹتے ہيں۔ اور عظمت رفتہ کی ياد دلا کر انسان
کو عبرت سکهاتے ہيں۔
بعض لوگ ز يادہ عبرت پکڑنے کے ليے ان تختوں کے نيچے کہيں کہيں دو
ايک پہيے لگا ليتے ہيں۔ اور سامنے دو ہک لگا کر ان ميں ايک گهوڑا ٹانگ د
يتے ہيں۔ اصطلاح ميں اس کو تانگہ کہتے ہيں۔ شوقين لوگ اس تختہ پر موم
جامہ منڈه ليتے ہيں تاکہ پهسلنے ميں سہولت ہو اور بہت زيادہ عبرت پکڑی
جائے۔
اصلی اور خالص گهوڑے لاہور ميں خوراک کے کام آتے ہيں۔ قصابوں کی
دوکانوں پر ان ہی کا گوشت بکتا ہے۔ اور زين کس کو کهايا جاتا ہے۔ تانگوں
ميں ان کی بجائے بناسپتی گهوڑے استعمال کئے جاتے ہيں۔ بناپستی گهوڑا
شکل وصورت ميں دم دار تارے سے ملتاہے۔ کيونکہ اس گهوڑے کی ساخت
ميں دم زيادہ اور گهوڑا کم پايا جاتا ہے، حرکت کرتے وقت اپنی دم کو دبا ليتا
ہے۔ اور اس ضبط نقش سے اپنی رفتار ميں ايک سنجيدہ اعتدال پيدا کرتاہے۔
تاکہ سڑک کا ہر تاريخی گڑها اور تانگے کا ہر ہچکولا اپنا نقش آپ پر ثبت
کرتا جائے اور آپ کا ہر ايک مسام لطف اندوز ہوسکے۔

قابل ديد مقامات

لاہور ميں قابل دير مقامات مشکل سے ملتے ہيں۔ اس کی وجہ يہ ہے کہ لاہور
ميں ہر عمارت کی بيرونی ديواريں دہری بنائی جاتی ہيں۔ پہلے اينٹوں اور
چونے سے ديوار کهڑی کرتے ہيں اور پهر اس پر اشتہاروں کا پلستر کرديا
جاتا ہے، جو دبازت ميں رفتہ رفتہ بڑهتا جاتا ہے۔ شروع شروع ميں چهوٹے
سائز کے مبہم اور غيرمعروف اشتہارات چپکائے جاتے ہيں۔ مثلاً “اہل لاہور
کو مژدہ” “اچها اور سستا مال” اس کے بعد ان اشتہاروں کی باری آتی ہے،
جن کے مخاطب اہل علم اور سخن فہم لوگ ہوتے ہيں مثلاً “گريجويٹ درزی
ہاؤس” يا “اسٹوڈنٹوں کے ليے نادر موقع”، يا “کہتی ہے ہم کو خلق خدا
غائبانہ کيا۔” رفتہ رفتہ گهر کی چار ديواری ايک مکمل ڈائرکٹری کی صورت
اختيار کرليتی ہے۔ دروازے کے اوپر بوٹ پالش کا اشتہار ہے۔ دائيں طرف
تازہ مکهن ملنے کا پتہ درج ہے۔ بائيں طرف حافظ کی گوليوں کا بيان ہے۔ اس
کهڑکی کے اوپر انجمن خدام ملت کے جلسے کا پروگرام چسپاں ہے۔ اُس
کهڑکی پر کسی مشہور ليڈر کے خانگی حالت بالوضاحت بيان کرديئے ہيں۔
عقبی ديوار پر سرکس کے تمام جانوروں کی فہرست ہے اور اصطبل کے
دروازے پر مس نغمہ جان کی تصوير اور ان کی فلم کے محاسن گنوا رکهے
ہيں۔ يہ اشتہارات بڑی سرعت سے بدلتے رہتے ہيں اور ہر نيا مژدہ اور ہر
نئی دريافت يا ايجاد يا انقلاب عظيم کی ابتلا چشمی زدن ميں ہر ساکن چيز پر
ليپ دی جاتی ہے۔ اس ليے عمارتوں کی ظاہری صورت ہر لمحہ بدلتی رہتی
ہے اور ان کے پہنچانے ميں خود شہر کے لوگوں کوبہت دقت پيش آتی ہے۔
ليکن جب سے لاہور ميں دستور رائج ہوا ہے کہ بعض اشتہاری کلمات پختہ
سياہی سے خود ديوار پر نقش کرديئے جاتے ہيں۔ يہ وقت بہت حد تک رفع
ہوگئی ہے، ان دائمی اشتہاروں کی بدولت اب يہ خدشہ نہيں رہا کہ کوئی
شخص اپنا يا اپنے کسی دوست کا مکان صرف اس ليے بهول جائے کہ پچهلی
مرتبہ وہاں چارپائيوں کا اشتہار لگا ہوا تها اور لوٹتے تک وہاں اہاليان لاہور
کو تازہ اور سستے جوتوں کا مژدہ سنايا جا رہا ہے۔ چنانچہ اب وثوق سے کہا
جاسکتا ہےکہ جہاں بحروف جلی “محمد علی دندان ساز” لکها ہے وہ اخبار
انقلاب کا دفتر ہے۔ جہاں “بجلی پانی بهاپ کا بڑا ہسپتال” لکها ہے، وہاں ڈاکٹر
اقبال رہتے ہيں۔ “خالص گهی کی مٹهائی” امتياز علی تاج کا مکان ہے۔ “کرشنا
بيوٹی کريم” شالامار باغ کو، اور “کہانسی کا مجرب نسخہ” جہانگير کے
مقبرے کو جاتا ہے۔

صنعت وحرفت

اشتہاروں کے علاوہ لاہور کی سب سےبڑی صنعت رسالہ بازی اور سب سے
بڑی حرفت انجمن سازی ہے۔ ہر رسالے کا ہر نمبر عموماً خاص نمبر ہوتا
ہے۔ اور عام نمبر صرف خاص خاص موقعوں پر شائع کئے جاتے ہيں۔ عام
نمبر ميں صرف ايڈيٹر کی تصوير اور خاص نمبروں ميں مس سلوچنا اور
مس کجن کی تصاوير بهی دی جاتی ہے۔ اس سے ادب کو بہت فروغ نصيب
ہوتا ہے اور فن تنقيد ترقی کرتا ہے۔
لاہور کے ہر مربع انچ ميں ايک انجمن موجود ہے۔ پريذيڈنٹ البتہ تهوڑے ہيں
اس ليے فی الحال صرف دو تين اصحاب ہی يہ اہم فرض ادا کر رہے ہيں
چونکہ انجمنوں کے اغراض ومقاصد مختلف ہيں اس ليے بسااوقات ايک ہی
صدر صبح کسی مذہبی کانفرنس کا افتتاح کرتا ہے۔ سہ پہر کو کسی سينما کی
انجمن ميں مس نغمہ جان کا تعارف کراتا ہے اور شام کو کسی کرکٹ ٹيم کے
ڈنر ميں شامل ہوتا ہے۔ اس سے ان کا مطمح نظروسيع رہتا ہے۔ تقرير عام
طور پر ايسی ہوتی ہے جو تينوں موقعوں پر کام آسکتی ہے۔ چنانچہ سامعين
کو بہت سہولت رہتی ہے۔

پيداوار

لاہور کی سب سے مشہور پيداوار يہاں کے طلباء ہيں جو بہت کثرت سے
پائے جاتے ہيں اور ہزاروں کی تعداد ميں دساور کو بهيجے جاتے ہيں۔ فصل
شروع سرما ميں بوئی جاتی ہے۔ اور عموماً اواخر بہار ميں پک کر تيار ہوتی
ہے۔
طلباء کی کئی قسميں ہيں جن ميں سے چند مشہور ہيں، قسم اولی جمالی
کہلاتی ہے، يہ طلباء عام طور پرپہلے درزيوں کے ہاں تيار ہوتے ہيں بعد
ازاں دهوبی اور پهر نائی کے پاس بهيجے جاتے ہيں۔ اور اس عمل کے بعد
کسی ريستوران ميں ان کی نمائش کی جاتی ہے۔ غروب آفتاب کے بعد کسی
سينما يا سينما کے گردونواح ميں:
رخ روشن کے آگے شمع رکه کر وہ يہ کہتے ہيں
ادهر جاتا ہے ديکهيں يا اُدهر پروانہ آتا ہے
شمعيں کئی ہوتی ہيں، ليکن سب کی تصاوير ايک البم ميں جمع کرکے اپنے
رکه چهوڑتے ہيں، اور تعطيلات ميں ايک ايک کو خط لکهتے رہتے ہيں۔
دوسری قسم جلالی طلباء کی ہے۔ ان کا شجرہ جلال الدين اکبر سے ملتا ہے،
اس ليے ہندوستان کا تخت وتاج ان کی ملکيت سمجها جاتا ہے۔ شام کے وقت
چند مصاحبوں کو ساته ليے نکلتے ہيں اور جودوسخا کے خم لنڈهاتے پهرتے
ہيں۔ کالج کی خوارک انہيں راس نہيں آتی اس ليے ہوسٹل ميں فروکش نہيں
ہوتے۔ تيسری قسم خيالی طلباء کی ہے۔ يہ اکثر روپ اور اخلاق اور اداگون
اور جمہوريت پر باآواز بلند تبادلہ خيالات کرتے پائے جاتے ہيں اور آفرينش
اور نفسيات جنسی کے متعلق نئے نئے نظريئے پيش کرتے رہتے ہيں، صحت
جسمانی کو ارتقائے انسانی کے ليے ضروری سمجهتے ہيں۔ اس ليے علی
البصح پانچ چه ڈنٹر پيلتے ہيں، اور شام کو ہاسٹل کی چهت پر گہرح سانس
ليتے ہيں، گاتے ضرور ہيں، ليکن اکثر بےسرے ہوتے ہيں۔ چهوتهی قسم خالی
طلباء کی ہے۔ يہ طلباء کی خالص ترين قسم ہے۔ ان کا دامن کسی قسم کی
آلائش سے تر ہونے نہيں پاتا۔ کتابيں، امتحانات، مطالعہ اور اس قسم کے
خرخشے کبهی ان کی زندگی ميں خلل انداز نہيں ہوتے۔ جس معصوميت کو
ساته لے کر کالج ميں پہنچتے تهے، اسے آخر تک ملوث ہونے نہيں ديتے
اورتعليم اور نصاب اور درس کے ہنگاموں ميں اس طرح زندگی بسر کرتے
ہيں جس طرح بتيس دانتوں ميں زبان رہتی ہے۔
پچهلے چند سالوں سے طلباء کی ايک اور قسم بهی دکهائی دينے لگی ہے،
ليکن ان کو اچهی طرح سے ديکهنے کےليے محدب شيشے کا استعمال
ضروری ہے، يہ وہ لوگ ہيں جنہيں ريل کا ٹکٹ نصف قيمت پر ملتا ہے اور
اگر چاہيں تو اپنی انا کے ساته زنانے ڈبے ميں بهی سفر کرسکتے ہيں۔ ان کی
وجہ سے اب يونيورسٹی نے کالجوں پر شرط عائد کر دی ہے کہ آئندہ صرف
وہی لوگ پروفيسر مقرر کئے جائيں جو دوده پلانے والے جانوروں ميں سے
ہوں۔

طلبی حالات
لاہور کے لوگ بہت خوش طبع ہيں۔

سوالات

لاہور تمہيں کيوں پسند ہے؟ مفصل لکهو۔
لاہور کس نے دريافت کيا اور کيوں؟ اس کے ليے سزا بهی تجويز کرو۔
ميونسپل کميٹی کی شان ميں ايک قصيدہ مدحيہ لکهو۔

Hello world!

Welcome to WordPress.com. This is your first post. Edit or delete it and start blogging!